NADRA B-Form Update: Photos for 3-10 Year Olds & Fingerprints for 10-18. Why the Change?

 

NADRA B-Form Update: Photos for 3-10 Year Olds & Fingerprints for 10-18. Why the Change?

📢 نادرا کا اہم اعلان: 3 سال سے بڑے بچوں کے 'ب فارم' پر تصویر اور بائیومیٹرک لازمی!

ایک نئے دور کا آغاز: محفوظ شناخت اور درست فیملی ٹری کی جانب ایک قدم


حال ہی میں، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) نے بچوں کی رجسٹریشن کے عمل میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف شناختی عمل کو مزید محفوظ بنائیں گی بلکہ ملک کے فیملی ٹری ڈیٹا کو بھی غلط اندراجات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

آئیے، ان نئی تبدیلیوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ والدین کے لیے ان کے کیا معنی ہیں:

👶 3 سے 10 سال کے بچوں کے ب فارم پر تصویر لازمی

نادرا کے نئے ضوابط کے تحت، اب 3 سال سے لے کر 10 سال تک کے تمام بچوں کے لیے ان کے 'ب فارم' یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC) پر تصویر کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اہم نکات:

  • عمر کی حد: یہ اصول 36 ماہ کی عمر مکمل کرنے والے بچے سے لے کر 10 سال کی عمر تک کے بچوں پر لاگو ہوگا۔

  • مقصد: اس اقدام کا بنیادی مقصد کم عمری میں ہی بچے کی درست بصری شناخت (Visual Identification) کو ریکارڈ کرنا ہے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ شناختی ریکارڈ میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

📝 نوٹ: 3 سال سے کم عمر (پیدائش سے لے کر 35 ماہ تک) کے بچوں کی رجسٹریشن کے لیے ب فارم پر تصویر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ ایک اہم چھوٹ ہے جو نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کے والدین کو رجسٹریشن کے ابتدائی مراحل میں آسانی فراہم کرتی ہے۔

✋ 10 سے 18 سال کے بچوں کے لیے فنگر پرنٹس کا اندراج

نادرا نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے 10 سال سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے بھی رجسٹریشن کے عمل کو سخت کر دیا ہے۔

  • اس عمر کے بچوں کے ب فارم کے اجراء یا تجدید کے لیے ان کے فنگر پرنٹس (بائیومیٹرکس) کا اندراج بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • یہ اقدام بنیادی طور پر بائیومیٹرک سسٹم میں بچے کے ڈیٹا کو کم عمری میں ہی شامل کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو بعد ازاں 18 سال کی عمر میں قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے حصول کے وقت شفافیت اور آسانی پیدا کرے گا۔

📜 فیملی ٹری کی حفاظت اور غلط اندراجات کا سدباب

نادرا کے مطابق ان تبدیلیوں کا سب سے بڑا مقصد فیملی ٹری (Family Tree) میں کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کے اندراج کا راستہ روکنا ہے۔

  • سخت شناختی عمل کے ذریعے، صرف حقیقی خاندان کے افراد ہی نادرا کے ریکارڈ میں شامل ہو سکیں گے۔

  • یہ ملکی سطح پر مردم شماری، ووٹر لسٹوں، اور دیگر سرکاری سکیموں کی درستگی کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا۔

  • فیملی ٹری کا تحفظ قومی سلامتی اور درست اعداد و شمار کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

🗓️ پیدائش کا اندراج: ایک ماہ کی ڈیڈلائن

نادرا نے والدین کو ایک اور اہم ہدایت جاری کی ہے کہ بچے کی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر اس کا اندراج یونین کونسل میں کرانا لازمی ہے۔

  • فوری اندراج: پیدائش کے فوراً بعد یونین کونسل سے برتھ سرٹیفکیٹ (Birth Certificate) حاصل کرنے سے نادرا میں بچے کے ڈیٹا کا اندراج قانونی طور پر شروع ہو جاتا ہے۔

  • اس بروقت اندراج سے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے، علاج معالجے اور مستقبل میں شناختی کارڈ کے حصول میں کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچایا جا سکتا ہے۔

👨‍👩‍👧‍👦 والدین کے لیے عملی تجاویز

  1. بروقت تیاری: اگر آپ کے بچے کی عمر 3 سال مکمل ہو چکی ہے یا ہونے والی ہے، تو ان کی پاسپورٹ سائز تصویر تیار رکھیں اور بغیر تاخیر کے ب فارم کے لیے نادرا کے سنٹر سے رجوع کریں۔

  2. بائیومیٹرک کی تیاری: اگر بچہ 10 سال سے بڑا ہے، تو اسے نادرا سنٹر لے جاتے وقت تیار رہیں کہ اس کے فنگر پرنٹس بھی لیے جائیں گے۔

  3. یونین کونسل کا ریکارڈ: یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ (Birth Certificate) یونین کونسل میں درست طریقے سے درج ہے۔


نادرا کا یہ اقدام یقیناً رجسٹریشن اور شناختی نظام کو جدید، محفوظ اور غیر مبہم بنانے کی جانب ایک قابل تعریف کوشش ہے۔ تمام والدین کو چاہیے کہ وہ ان نئے قوانین پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ ان کے بچوں کی قومی شناخت کا سفر آسانی اور درستگی سے شروع ہو سکے۔

آپ ان نئے قواعد کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں یہ فیملی ٹری کی حفاظت میں مددگار ثابت ہوں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

Post a Comment

0 Comments