نادرا بایومیٹرک قوانین میں ترمیم: فیسشل ریکگنیشن اور آئرس اسکیننگ اب قانونی شناخت – 2026 اپ ڈیٹ

نادرا کی بایومیٹرک قوانین میں اہم ترمیم: چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو قانونی شناخت مل گئی

سال 2026 کا آغاز پاکستان کے لیے ایک اہم تکنیکی پیش رفت کے ساتھ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے نادرا کے بایومیٹرک قوانین میں ترمیم کر کے فنگر پرنٹس کے علاوہ فیسشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) اور آئرس اسکیننگ (آنکھوں کی اسکیننگ) کو بھی قانونی طور پر قابل قبول بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا ہے۔ یہ تبدیلی شہریوں کی سہولت کے لیے ایک بڑا قدم ہے، خاص طور پر ان بزرگ افراد کے لیے جن کے فنگر پرنٹس عمر بڑھنے یا دیگر وجوہات کی بنا پر مدھم ہو جاتے ہیں۔

نادرا فیسشل ریکگنیشن سسٹم

نادرا بایومیٹرک ورٹیفیکیشن

نادرا نئی بایومیٹرک سہولت

نئی سہولیات کیا ہیں؟

نادرا نے پہلے ہی کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور فیسشل ریکگنیشن پر مبنی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ یہ سہولت نادرا رجسٹریشن سینٹرز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے۔

پاک آئی ڈی ایپ فیسشل ریکگنیشن

فیسشل ریکگنیشن بریک تھرو

نادرا فیسشل ریکگنیشن نیوز

فی الحال یہ اسلام آباد میں گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ مستقبل میں پنشنرز کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام سے جاری ہوں گے۔

20 جنوری 2026 سے — نادرا تمام مراکز پر فیسشل ریکگنیشن سرٹیفکیٹس جاری کرے گا، صرف معمولی فیس پر۔ یہ سرٹیفکیٹ 7 دن کے لیے معتبر ہوگا اور اس میں کیو آر کوڈ بھی شامل ہوگا۔

نادرا آئرس اسکیننگ

آئرس شناخت

فیسشل سرٹیفکیٹ

نادرا سرٹیفکیٹ

QR کوڈ سرٹیفکیٹ

بایومیٹرک سرٹیفکیٹ

یہ تبدیلی کیوں ضروری تھی؟

بہت سے شہریوں، خاص طور پر بزرگ افراد کو، بینکوں، سم کارڈز، جائیداد کی منتقلی وغیرہ میں فنگر پرنٹ تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ناقص آلات یا مدھم پرنٹس کی وجہ سے تصدیق ناکام ہو جاتی تھی۔ اب یہ نیا نظام ان مسائل کا مستقل حل فراہم کرے گا۔

بزرگ افراد فنگر پرنٹ مسائل

سینئر سٹیزن بایومیٹرک

بزرگ شہری مسائل

یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اداروں کو اپنا ہارڈویئر اور سافٹ ویئر اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ یہ سہولت مکمل طور پر نافذ ہو سکے۔

مستقبل میں ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد یہ سہولیات پاک آئی ڈی ایپ پر بھی دستیاب ہوں گی، جس سے شہریوں کو گھر بیٹھے فائدہ ہوگا۔

یہ ترمیم پاکستان کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف ایک اور قدم آگے لے جا رہی ہے، اور امید ہے کہ اس سے روزمرہ زندگی میں بہت سی سہولیات بڑھیں گی۔

نوٹ: یہ معلومات ڈان نیوز اور دیگر معتبر ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہیں (دسمبر 2025)۔

Post a Comment

0 Comments